ابنا: وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے پر فریقین کی جانب سے عملدرآمد ہونے کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جن سے ایک جامع سمجھوتے پر پہنچنا آسان ہوجائے گا۔ایران کے وزیر خارجہ نے آئندہ کے مذاکرات کو اور زیادہ سخت مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چھے مہینوں کا دور ایک دوسرے کی جانب سے اعتماد کی بحالی کیلئے نیک نیتی کے ساتھ اقدامات عمل میں لائے جانے کا دور ہے تاکہ فریقین کے درمیان آئندہ کیلئے راہ ہموار ہوسکے۔انھوں نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیاروں کے درپے نہیں رہا ہے اور نہ ہی اس کے پاس چھپانے والی چیز ہے اسکا ایٹمی پروگرام پرامن ہے جس میں کبھی کسی خلاف ورزی کا مشاہدہ نہیں کیا گيا ہے اور اس حقیقت کی تصدیق خود ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے بارہا اپنی رپورٹوں میں بھی کی ہے۔......./169
29 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 484703
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب محمد جواد ظریف نے اپنے شہر قم کے دورے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے میں، کہ جس پر فریقین نے دستخط کئے ہیں، ایران میں یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کیا گيا ہے اور اب یہ مسئلہ، قابل مذاکرات نہیں رہا ہے۔